"وہ فیض کو سمجھ نہ سکا..."
....وہ فیض کو سمجھ نہ سکا
مجھے عشق تھا لفظوں سے، شاعری سے، خیال سے
میں فراق میں بھی وفا ڈھونڈ لیتی تھی جمال سے
میں نے تجھے فیض سنایا، فراز کی رنجشیں سنائیں
مگر تُو ہر مصرع کو فقط معمولی بات سمجھا
میں نے کہا — "محبوب، پہلی سی محبت نہ مانگ"
اور تُو ہنسا، جیسے یہ بھی کوئی ڈرامہ ہو
"رنجش ہی سہی" میں نے دُکھی دل سے پڑھا
تُو سمجھا شاید، میں بلانے کی رسم نبھا رہی ہوں
تم نہ ماضی سمجھے، نہ میری شاعری کا دکھ
تو پھر میرا سکوت کیسے سمجھتے؟

Comments
Post a Comment