خاموش لفظوں کا شور
خاموش لفظوں کا شور
جو دل میں تھا، کبھی زباں پہ نہ آیا،
جو لفظ لکھے، کسی کو دکھایا نہ۔
ہر بات کو دل کے گوشے میں رکھا،
ہر جذبے کو خامشی کی چادر میں چھپا رکھا۔
ڈرتی رہی کہ کوئی پڑھ نہ لے،
کوئی سن نہ لے، کوئی سمجھ نہ لے،
کہیں غلط نہ سمجھے، برا نہ کہے،
اسی خوف میں ہر سچ دل میں دبا رکھا۔
اے بے وفا! تیرا شکریہ،
تیری بے وفائی کا، تیری چالاکی کا شکریہ۔
تو نے جو زخم دیے، وہی مرہم بن گئے،
تو نے جو توڑا، وہی خواب نئے بن گئے۔
اب جو دل میں ہے، لبوں پہ سجا لیتی ہوں،
جو لفظ کبھی چھپائے تھے، دنیا کو سنا دیتی ہوں۔
اب نہ ڈر ہے، نہ کوئی وسوسہ،
اب میں خود کو بے خوف جِیا کرتی ہوں۔
اب ہر لمحہ خود کو لکھتی ہوں،
اب ہر درد کو روشنی میں رکھتی ہوں۔
خاموش لفظ اب شور مچاتے ہیں،
میرے خواب اب ستاروں کو چھو آتے ہیں۔
KULSOOM AFZAL

Comments
Post a Comment