دسمبر کی سرد شام ہو

 


دسمبر کی سرد شام ہو
میں ہوں، تم ہو،
اور گرم چائے کی پیالی۔

ہلکی ہلکی دھند کا پہر،
مدھم روشنی، خاموش شہر،
اور گرم چائے کی پیالی۔

کچھ ادھوری باتیں ہوں،
کچھ بیتے لمحوں کی راتیں ہوں،
اور گرم چائے کی پیالی۔

کچھ قصے محبت کے،
کچھ خواب حقیقت کے،
اور گرم چائے کی پیالی۔

کچھ زخم پرانے دل کے،
کچھ لفظ سہانے کل کے،
اور گرم چائے کی پیالی۔

دسمبر کی سرد شام ہے،
میرے ساتھ تیرا نام ہے،
اب بچھڑنا ممکن نہیں،
اب محبت انمول ہے،

دسمبر کی سرد شام ہو،
میں ہوں، تم ہو،
اور گرم چائے کی پیالی۔

                   KULSOOM AFZAL

Comments

Popular posts from this blog

Love and Hurt

The start of a new journey, a new me within

They Couldn’t See Me Bloom